091-921 6336
     info@fdma.gov.pk

یف ڈی ایم اے نے متا ئثرین کی واپسی پر ملنے والی امداد کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان کر دیا

 

 

پشاور ( پ ر) ڈائریکٹر جنرل فاٹا ڈٰیزاسٹر میجمینٹ اتھارٹی ( ایف ڈی ایم اے) نے قبائلی علاقوں کے واپس جانے والے متا ئثرین کو دئے جانے والے 35 ہزار نقد امداد کی رقم کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق سابقہ پالیسی کے بر عکس امدادی رقم چھ ماہ گذرنے کے بعد بھی متائثرین سیم کے ذریعے وصول کر سکے گے ۔ ڈ جی ایف ڈی ایم اے ناصر دُ رانی کے دفتر سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سال 2016 میں بنا ئی گئی ایک پالیسی کے مطابق واپسی کے وقت دیا جانے والا امدادی رقم کو اگر چھ ماہ کے اندر اندر نہ لیا گیا تو مذکورہ رقم واپس ایف ڈی ایم اے کے اکاؤنٹ میں چلا جا تا لیکن موجودہ پالیسی کے مطابق ایسا نہیں ہوگا بلکہ متا ئثرین جب چاہے اپنی رقم کو اے ٹی ایم کے ذریعے سے وصول کرسکے گے۔ اس بارے میں ڈائکٹر جنرل ایف ڈی ایم اے نے بتا یا کہ ہزاروں قبائلی متا ئثرین کی رقوم سابقہ پالیسی کی وجہ سے پھنسی ہو ئی تھیں اور بے شمار شکایات روزانہ موصول ہو رہی تھی جس پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ جن متائثرین کے کارڈز میں کو ئی مسئلہ ہو اور جو چھ ماہ گذرنے کے بعد بھی اپنی رقوم وصول نہ کرسکے ان کی رقوم کو واپس نہیں کیا جا ئے گا بلکہ وہ ان کے اکاؤنٹس میں محفوظ رہینگے ۔اعلامیہ جاری ہو نے کے بعد ھنگامی بنیادوں پر متا ئثرین کی پھنسی ہو ئی رقوم کو ان کے متعلقہ اکاؤنٹس میں جمع کرانے کیلئے کام شروع کر دیا گیا۔ دریں اثناء شمالی وزیرستان کے متا ثرین کی ڈھائی سو سے زائد بلاک سیموں کو بھی فوری طور پر کھولنے کا حکم ہوا ہے جس کے بعد اُ ن متا ئثرین کیلئے بھی ماہانہ راشن اور 12ہزار کی امدادی رقم ملنا شروع ہو جا ئے گی ۔